نئی دہلی ،3/مئی(ایس او نیوز/ایجنسی)آنے والے دنوں میں ہندوستان میں پھانسی کے ذریعہ دی جانے والی سزائے موت پر روک لگ سکتی ہے اور پھانسی کے بجائے متبادل طریقہ پر موت کی سزا سنائی جاسکتی ہے- اس سلسلے میں مرکزی حکومت نے 2 مئی کو سپریم کورٹ میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پھانسی کے ذریعہ دی جانے والی سزائے موت کو بدلنے پر غور کر رہی ہے- ساتھ ہی مرکز کا کہنا ہے کہ وہ اس کیلئے ایکسپرٹ کمیٹی کی تشکیل پر غور کر رہی ہے جو موت کی سزا دینے کے موجودہ طریقوں کا جائزہ لے گی-
میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایڈوکیٹ رشی ملہوترا نے 2017 میں ایک مفاد عامہ عرضی داخل کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پھانسی کی سزا کی جگہ موت کیلئے کسی کم دردناک طریقے پر غور کیا جانا ضروری ہے- عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے گزشتہ 21 مارچ کو کہا تھا کہ وہ پھانسی کے ذریعہ موت کی سزا دیئے جانے پر غور و خوض کر سکتی ہے- عدالت نے اس سلسلے میں مرکز سے موت کی سزا کے الگ الگ طریقوں پر بہتر ڈاٹا دینے کا مطالبہ کیا تھا-
اس سلسلے میں اٹارنی جنرل وینکٹ رمانی نے عدالت سے کہا کہ سزائے موت کیلئے پھانسی کے متبادل پر غور کرنے سے متعلق مجوزہ پینل کیلئے ناموں کو طے کرنے کا عمل اپنے آخری مرحلہ میں ہے اور کچھ وقت بعد وہ اس ایشو پر زیادہ جانکاری دیں گے- چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس جے بی پاردیوالا کی بنچ نے اٹارنی جنرل وینکٹ رمانی کے ذریعہ دی گئی اس جانکاری پر غور کیا اور کہا کہ اٹارنی جنرل نے کمیٹی میں تقرریوں پر غور کرنے کی بات کہی ہے- اس کو دیکھتے ہوئے ہم گرمی کی چھٹیوں کے بعد اس کی سماعت کیلئے ایک طے تاریخ دیں گے-